تنہا، سر انجمن کھڑي تھي
تنہا، سر انجمن کھڑي تھي ميں اپنے وصال سے بڑي تھي
اک پھول تھي اور ہوا کي زد پر پھر ميري ہر ايک پنکھڑي تھي
اک عمر تلک سفر کيا تھا منزل پہ پہنچ کے گر پڑي تھي
طالب کوئي ميري نفي کا تھا اور شرط يہ موت سے کڑي تھي
وہ ايک ہوائے تازہ ميں تھا ميں خواب قديم ميں گڑي تھي
وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا ميں اپنے حضور ميں کھڑي تھي |