پشاور…خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے189 افرادجاں بحق اورمتعدد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ رابطہ پل بہہ جانے سے کئی علاقوں کا آپس میں رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔سوات اور شانگلہ میں شدید بارشوں اور دریائے سوات میں طغیانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔شانگلہ کے علاقہ الندر میں پہاڑی تودہ گرنے سے16افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ شانگلہ ہی میں مختلف واقعات میں93افراد ہلاک ہوگئے ۔ سوات میں سیلاب میں بہہ کر25 افراد ہلاک ہوئے۔سوات میں 25 رابطہ پل بہہ جانے سے تحصیل کبل، مٹہ، بری کوٹ، چار باغ، خوازہ خیلہ، بحرین اور بابوزئی کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ کالام میں سیلابی ریلے میں متعدد دکانیں اور مکانات بہہ گئے۔بٹ گرام کے علاقہ سرخیل بالابانڈہ میں پہاڑی تودہ گرنے سے تین بہن بھائی جاں بحق ہوگئے۔بٹگرام میں تھاکوٹ کے قریب دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث کالا ڈھاکا جانیوالی سڑک اور مرکزی پل زیر آب آگیا جبکہ تھاکوٹ اور اور الائی میں درجن سے زائد مکانات بھی زیرآب آگئے۔مانسہرہ میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائڈنگ سے شاہراہ کاغان دوسرے روز بھی بند رہی جس سے سیکڑوں سیاح شوگران،کاغان اور ناران میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔کوہستان میں کاسرکے مقام پر سیلاب سے سیکڑوں مکانات زیر آب آگئے اور10 سے زائد گھروں کے مکین لاپتہ ہوگئے۔تحصیل پالس اورتحصیل پٹن کو ملانے والا رابطہ پل بھی زیرآب آگیا۔ دریائے کنہار میں مانسہرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جسکے بعد دریا کے کنارے آباد لوگوں کونقل مکانی کاحکم دے دیا گیا، بالاکوٹمیں سیلاب کے پیش نظر تھانہ بالاکوٹ، سول اسپتال اور بازار خالی کرالیا گیا۔کوہاٹ ڈویژن میں سیلاب سے جرمہ پل گرگیا جس کے ملبے تلے دبے12افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، مختلف واقعات میں13 افراد ہلاک ہوگئے۔نوشہرہ میں سیلا بی ریلے میں4افراد ڈوب کر ہلاک اور25 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال نوشہرہ میں کئی فٹ پانی داخل ہوگیا جسکے بعداسپتال میں موجود ڈاکٹرز،عملہ اور مریض سیلابی ریلے سے بچنے کیلئے اسپتال کی چھتوں پر چڑھ گئے۔وشہرہ کلاں ، اضاخیل، خیر آباد ،پیرسباق سمیت دیگر علاقے ڈوب گئے۔ اضاخیل کیمپ سے مہاجرین کا انخلاشروع کردیا گیا۔اپردیر کے مختلف علاقوں میں780 مکانات34 اسکول ،6 بڑے پل ،28 رابطہ پل،11 مساجد اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی سیلاب میں بہہ گئی۔لوئر دیرمیں بارشوں کے بعد مکان کی چھت گرنے سے6بچوں سمیت11افراد ہلاک اور21افراد ریلے میں بہہ گئے۔چارسدہ میں دریائے سوات اور جیندی سے آنے والے سیلاب سے9افراد ہلاک اور42زخمی ہوگئے، جیندی پل بھی سیلاب کی نذر ہوگیا۔ دریائے گلگت میں سیلاب سے متعدد دیہات اورقانون ساز اسمبلی کی عمارت زیر آب آگئی۔ دیامر کی تانگیر ویلی میں سیلابی پانی میں ڈوب کرتین بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔دریائے غذرکے قریبی علاقے زیر آب آگئے۔بنوں میں سیلابی ریلے میں پانچ بچے بہہ گئے۔خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں چالیس سے زائد مکانات بہہ گئے۔