Qasas ul Anbiya
Title: Hazrat Shaya Bin Amsiya (A.S)
Total Records: 2 - Total Pages: 2 - Current Page: 1
حضرت شعيا بن امصياعليہ السلام

امام محمد بن اسحاق? کہتے ہيں کہ آپ کا زمانہ حضرت زکريا اور حضرت يحيي? عليہ السلام سے پہلے کا ہے? آپ نے حضرت عيس?ي عليہ السلام اور حضرت محمد ? کي بعثت کي خوشخبري دي تھي? آپ کے زمانے ميں بيت المقدس کے علاقے ميں حزقيا بني اسرائيل کا بادشاہ تھا? وہ حضرت شعيا عليہ السلام کي ہدايات پر پوري طرح عمل کرتا تھا? اس وقت بني اسرائيل کے حالات دگر گوں تھے? بادشاہ کے پاؤں ميں پھوڑا نکل آيا جب کہ بابل کا بادشاہ سنحاريب چھ لاکھ کي فوج کے ساتھ بيت المقدس کي طرف پيش قدمي کررہا تھا? لوگ بہت پريشان تھے? بادشاہ نے حضرت شعيا عليہ السلام سے پوچھا: ” اللہ تعالي? نے آپ کي طرف سنحاريب کي فوجوں کے بارے ميں کيا وحي نازل فرمائي ہے؟“ آپ نے فرمايا: ”ابھي کوئي وحي نازل نہيں ہوئي?“ آخر وحي نازل ہوئي کہ حزقيا بادشاہ سے کہہ ديجيے کہ کسي کو اپنا قائم مقام نامزد کردے کيونکہ اس کي موت کا وقت قريب ہے? جب آپ نے بادشاہ کو اللہ کا يہ پيغام ديا تو بادشاہ قبلہ رخ ہو کر نماز، دعا اور گريہ زاري ميں مشغول ہوگيا? اس نے اخلاص‘ توکل اور صبر کا دامن پکڑا اور دعا کي: ”يااللہ! اے سب مالکوں کے مالک! سب معبودوں کے معبود! يا رحمان! يا رحيم! اے وہ ذات جو نيند اور اونگھ سے پاک ہے! ميرے اعمال پر اور بني اسرائيل ميں انصاف کے ساتھ حکومت کرنے پر نظر فرما! يہ سب تيري توفيق سے ہوا? تو يہ بات مجھ سے زيادہ جانتا ہے? ميرا ظاہر و باطن تيرے ليے ہے?“
اللہ تعالي? نے اس کي دعا قبول کي، رحمت فرمائي اور حضرت شعيا عليہ السلام کي طرف وحي نازل فرمائي کہ اسے خوش خبري دے ديں کہ اللہ نے اس کي گريہ زاري پر رحم فرمايا اور اس کي موت کو پندرہ سال کے ليے موخر فرما ديا ہے اور اسے اس کے دشمن سنحاريب سے نجات دے دي ہے? جونہي شعيا عليہ السلام نے اسے يہ خوشبري سنائي، اس کي بيماري دور ہوگئي، تمام غم و فکر دور ہوگئے? وہ اللہ کے آگے سجدہ ريز ہوگيا? اس نے سجدہ ميں يہ الفاظ کہے: ”يااللہ! توہي جسے چاہتا ہے حکومت ديتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھين ليتا ہے? تو جسے چاہتا ہے عزت ديتا ہے? تو ظاہر اور پوشيدہ سے باخبر ہے? تو ہي اوّل و آخر ہے? توہي ظاہر و باطن ہے? توہي رحم فرماتا ہے اور لاچاروں کي دعا قبول کرتا ہے?“
جب اس نے سجدہ سے سر اُٹھايا تو اللہ تعالي? نے شعيا عليہ السلام کي طرف وحي نازل فرمائي کہ بادشاہ کو حکم ديں کہ وہ انجير کا پاني نکال کر اپنے زخم پر لگائے، اسے شفا حاصل ہوجائے گي? اس نے اس ہدايت کے مطابق عمل کيا تو اسے شفا ہوگئي?
اللہ تعالي? نے سنحاريب کے لشکر پر موت مسلط کردي? چنانچہ وہ سب ہلاک ہوگئے? صرف سنحاريب اور اس کے پانچ ساتھي باقي بچے جن ميں سے ايک بخت نصر تھا? بني اسرائيل کے بادشاہ نے سپاہي بھيج کر انہيں گرفتار کرليا? ان کي گردنوں ميں طوق ڈال کر شہر ميں گھمايا‘ اسي طرح ستر دن انہيں ذليل کيا? ان لوگوں کو روزانہ جو کي دو دو روٹياں دي جاتي تھيں? پھر انہيں جيل ميں ڈال ديا? شعيا عليہ السلام نے
NEXT

Random Post

New Pages at Social Wall

New Profiles at Social Wall

Connect with us


Facebook

Twitter

Google +

RSS